دعوؤں میں حقیقت اور مبالغہ آرائی کتنی؟

امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں کے درمیان پہلے مباحثے میں ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کیے گئے دعوؤں اور جوابی دعوؤں میں حقیقت اور مبالغہ آرائی میں امتیاز کرنا حقائق معلوم کرنے والوں کے لیے ایک بڑا کام تھا۔

ذیل میں دونوں امیدواروں کی طرف سے کیے گئے چند دعوؤں اور ان کی حقیقت کا موزانہ کیا گیا ہے۔

دعویٰ

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے سنہ 2003 میں عراق پر حملے کی حمایت کی تھی لیکن ٹرمپ نے اس دعوے کی تردید کی۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر یہ کہا کہ وہ سنہ 2003 میں عراق پر امریکی حملے کے خلاف تھے اور ان کے مطابق ہلیری کلنٹن نے ان کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ذرائع ابلاغ کے بڑے اداروں نے آگے بڑھا دیا۔

حقیقت کیا ہے:

ٹرمپ نے جنگ کے شروع ہونے تک کبھی کھل کر اس کی مخالفت نہیں کی تھی۔ گیارہ ستمبر سنہ 2002 میں نشر ہونے والے ایک ریڈیو پروگرام کے میزبان ہاورڈ سٹرن نے ڈونلڈ ٹرمپ سے جب یہ سوال کیا تھا کہ وہ عراق پر حملہ کیے جانے کی حمایت کرتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ نے جواب دیا ’ہاں میرے خیال میں۔‘

ہلیری سے بحث کے دوران انھوں نے اس سے جان چھڑاتے ہوئے کہا کہ وہ تو انھوں نے یونہی کہہ دیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ وہ فوکس نیوز کے سین ہینٹی سے نجی طور پر کہتے رہے ہیں کہ عراق پر حملہ مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کر دے گا لیکن ان کے اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ حملے کے بعد وہ اس فیصلے کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرنے لگے تھے۔

دعویٰ:

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ہلیری کلنٹن نے ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے ٹرمپ کے بہت کامیاب کاروباری ہونے کے بلند بانگ دعوؤں پر بھی سوال اٹھایا۔

ہلیری نے کہا کہ ’آپ کو معلوم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ بہت خوش قسمت ہیں لیکن صرف اور صرف اپنے فائدے کے لیے۔‘ کلنٹن نے مزید کہا کہ انھوں نے اپنے والد سے ایک کروڑ چالیس لاکھ ڈالر لے کر کاروبار شروع کیا تھا۔

حقیقت کیا ہے:

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے جائیداد کی خرید و فروخت کرنے والے اپنے والد سے دس لاکھ ڈالر کا قرضہ لیا تھا۔ انھیں قرضوں پر گارنٹی اور وراثت میں پیسے اور والد کی کچھ جائیداد بھی ملی تھی۔

دعویٰ

ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ کلنٹن نے کہا تھا کہ تجارتی معاہدوں کے لیے ٹرانس پیسفک پاٹنرشپ ڈیل (بحرالکاہل کے آر پار ہونے والے مشترکہ تجارت کے معاہدے) میں تجارت ’گولڈ سٹینڈر‘ کی بنیاد پر ہو۔

کلنٹن نے اس کی تردید کی ہے اور کہا کہ ’میں نے کہا تھا کہ مجھے امید تھی کہ یہ ایک اچھا معاہدہ ثابت ہو گا۔‘

حقیقت کیا ہے:

یہاں ٹرمپ ٹھیک ہیں۔ کلنٹن نے صرف امید ہی ظاہر نہیں کی تھی کہ یہ معاہدہ اچھا ثابت ہو گا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر سنہ 2012 میں آسٹریلیا کے دورے پر کہا تھا کہ اس کی بنیاد گولڈ سٹینڈر ہی ہو گا۔

بحرالکاہل کے آر پار تجارت کے معاہدے کے تحت تجارتی لین دین میں گولڈ سٹینڈر کو بنیاد قرار دیا گیا تاکہ ایک ایسا ماحول پیدا کیا جا سکے جو آزادانہ، شفاف، منصفانہ، قانون کے مطابق اور مساوی ہو۔

دعویٰ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ہلیری نے کہا کہ ’لوگوں نے ہم دونوں کی مجوزہ معاشی پالیساں دیکھی ہیں اور انھوں نے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ میرے منصوبے پر عمل درآمد سے روز گار کے ایک کروڑ سے زیادہ مواقعے پیدا ہوں گے اور آپ (ڈونلڈ) کے منصوبے سے 35 لاکھ نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔

حقیقت کیا ہے:

ہلیری نے یہ دعویٰ پہلے بھی کیا تھا۔ اس کی بنیاد بین الاقوامی کمپنی موڈیز کے ایک تجزیہ کار کی رپورٹ تھی جس میں کہا گیا کہ معاشی ترقی کی وجہ سے روز گار کے ایک کروڑ نئے مواقعے پیدا ہوں گے۔

اگر کلنٹن کی معاشی پالیسوں پر عملدآرمد کیا جاتا ہے اور انھیں قانون کی شکل دے دی جاتی ہے جس کا رپورٹ کے مطابق امکان بہت کم ہے اس کی وجہ سے ایک کروڑ میں سے صرف 32 لاکھ نئی نوکریاں پیدا ہوں گی۔

اس ہی رپورٹ میں ٹرمپ کے معاشی منصوبوں کا تجزیہ کیا گیا اور کہا گیا کہ اس کی وجہ سے قوی امکان ہے کہ امریکہ کساد بازاری کا شکار ہو جائے اور 35 لاکھ نوکریاں ختم ہو جائیں۔ اس تجزیہ پر ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والے سخت برہم ہوئے اور انھوں نے اس کی سختی سے تردید کی۔

ان رپورٹ کے ایک مصنف مارک زینڈی نے سی این این کے پروگرام ’منی‘ میں ان کا اور زیادہ کڑا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ ہلیری کی پالیسی کے تحت اگر ایک کروڑ نوکریاں نکلیں گی تو اس کے مقابلے میں ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کے تحت 35 لاکھ کی جگہ چار لاکھ نوکریاں ختم ہو جائیں گی۔

ڈونلڈ مرٹپ کا دعویٰ:

تصویر کے کاپی رائٹ AP

ٹرمپ نے بے شمار مرتبہ خود کو دولت اسلامیہ کہنے والی شدت پسند تنظیم کے ظہور کا ذمہ دار اس وقت سیکریٹری آف سٹیٹ کے عہدے پر فائز ہلیری کلنٹن کو قرار دیا۔ اور اس مباحثے میں یہ ان کا آخری موقع تھا۔

حقیقت کیا ہے:

ممکنہ طور پر اس مباحثے میں کیا جانے والا سب سے انوکھا دعویٰ۔ کلنٹن 68 برس کی ہیں۔ دولت اسلامیہ سنہ 2009 تک وجود میں نہیں آئی تھی، گو کہ اس کی جڑیں عراق میں سنی فرقے کے مسلمانوں کی تنظیم القاعدہ سے ملتی ہے جو سنہ 2004 میں بنی تھی۔

دعویٰ:

کلنٹن نے ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ ماحولیاتی تبدیلیوں کو ایک مسئلہ بنا رہے ہیں جو ان کے بقول چین نے کھڑا کیا ہے۔ ٹرمپ نے اصرار کیا کہ انھوں نے ایسا کچھ نہیں کہا ہے۔

حقیقت کیا ہے:

اس دعوے یا الزام کی بنیاد سنہ 2012 میں ٹرمپ کی طرف سے کی جانے والی ایک ٹوئٹ تھی جسے بعد میں انھوں نے ایک مذاق قرار دیا تھا۔ انھوں نے کہا تھا کہ عالمی حدت کا سارا تصور چین کے لیے بنایا گیا تھا تاکہ چین کی مصنوعات کا مقابلہ امریکی مصنوعات نہ کر سکیں۔

ہلیری کلنٹن کا دعویٰ:

ہلیری کلنٹن نے کہا کہ نسل کی بنیاد پر یہ تعین کیا جاتا ہے کہ انصاف کے نظام میں کس سے کیسا برتاؤ کیا جائے گا۔

حقیقت کیا ہے:

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اس دعوے کو ثابت کرنا ممکن نہیں ہے کیونکہ اس بارے میں کوئی اعداد و شمار دستیاب نہیں ہے کہ کتنے فیصد جرائم میں گرفتاریاں ہوتی ہیں۔ ہم صرف یہ جانتے ہیں کہ سیاہ فام لوگ سفید فام افراد کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ گرفتار ہوتے ہیں۔

سیاہ فام امریکی ملک کی کل آبادی میں صرف 13 فیصد ہیں جبکہ 64 فیصد امریکی سفید فام ہیں۔ اس کے باوجود جیل میں سیاہ فام لوگوں کا تناسب 40 فیصد ہے اور سفید فام لوگوں کا تناسب 39 فیصد ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ سیاہ فام لوگ جن کی اکثریت شہروں میں آباد ہے جہاں پولیس زیادہ چوکس ہوتی ہے وہ سفید فام لوگوں سے پانچ گنا زیادہ جرائم کرنے پر مائل رہتے ہیں۔

ہلیری کلنٹن کا دعوی ہے کہ افریقی نژاد امریکی مردوں کو دیگر نسلوں کے مردوں کے مقابلے میں گولی مار دینے کا امکان زیادہ ہے۔ یہ ایک ایسا دعویٰ یا بیان ہے جو کہ اعداد و شمار سے سچ ثابت ہوتا ہے۔

ہلیری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس بات پر بھی سخت ٹاکرا ہوا کہ نیو یارک سٹی میں قتل کی وارداتوں میں ان دنوں میں اضافہ ہوا جب وہ شہر کے میئر کے عہدے پر فائض تھے۔

قتل کی وارداتوں میں اضافہ ہونے کا دعویٰ:

حقیت کیا ہے:

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جیسا کہ جرائم کے اعداد و شمار کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیشہ ہوتا ہے کہ آپ ان سے کوئی بھی نتیجہ اخذ کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی ایف بی آئی کے اعداد و شمار کے مطابق نیو یارک شہر میں قتل کی وارداتیں کم ترین سطح پر ہیں لیکن وہ سنہ 2014 اور سنہ 2015 میں تھوڑی سے بڑھ گئی تھیں۔ لیکن نیو یارک پولیس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق قتل کی وراداتیں سنہ 2015 کے مقابلے میں چار فیصد کم ہوئی ہیں۔

اس کے برعکس ملک میں مجموعی طور پر سنہ 2015 کے مقابلے میں قتل کی وارداتوں میں دس اعشاریہ آٹھ فیصد اضافہ ہوا ہے جو سنہ 1971 کے بعد ایک سال میں قتل کی وارداتوں میں سب سے زیادہ اضافہ ہے۔ جن علاقوں میں زیادہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ان میں شکاگو، واشنگٹن ڈی سی اور بالٹی مور شامل ہیں۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ سڑکوں پر تلاشی اور حراست میں لینے کی حکمت عملی کافی موثر ثابت ہوئی اس کی وجہ سے نیویارک میں جرائم میں کمی واقع ہوئی۔ اس پر تجزیہ کاروں کی طرف سے شدید اعتراض اٹھائے گئے ہیں۔

دعویٰ:

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ٹیکس کے گوشوارے جمع نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا ٹیکس آڈٹ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ان کو شائع کرنے سے کوئی انکشاف نہیں ہونے والا۔

ہلیری کلنٹن کا کہنا ہے کہ وہ کبھی اپنے ٹیکس کی تفصیلات سے قوم کو آگاہ نہیں کریں گے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی اصلیت سامنے آ جائے گی۔ وہ اتنے امیر نہیں ہیں کہ جتنا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ فیڈرل ٹیکس بھی نہیں ادا کرتے اور خیراتی کاموں کے لیے بھی اتنی رقم نہیں نکالتے جتنا وہ تاثر دیتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے گذشتہ پانچ برس میں دس کروڑ دو لاکھ ڈالر دیے ہیں لیکن واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ ٹرمپ نے سنہ 2008 کے بعد سے اب تک کوئی رقم خیرات نہیں کی ہے۔ فوربز کے اندازے کے مطابق ٹرمپ کی اصل دولت چار اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کے قریب ہے جبکہ ان کا اپنا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس دس ارب ڈالر ہیں۔ دلچسپ بات یہ کہ ٹرمپ نے آج تک ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا ہے کہ ٹیکس حکام ان کا آڈٹ کر رہے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے اے پی کے مطابق ٹرمپ کے ٹیکس کے وکلاء کی طرف سے جو خط جاری کیا گیا ہے اس میں آڈٹ کا لفظ استعمال نہیں کیا اور صرف اتنا کہا ہے کہ اس کے گوشواروں پر مستقل نظرثانی ہو رہی ہے۔

اسی بارے میں