پہلا صدارتی مباحثہ، کون جیتا کون ہارا؟

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

دو امریکی صدارتی امیدواروں کا پہلا مباحثہ اصل میں ایک وکیل اور سیلزمین کے درمیان دنگل تھا جس میں بڑی حد تک وکیل کو بالادستی رہی۔

بہت سے لوگوں کو معلوم نہیں ہو گا لیکن ہلیری کلنٹن امریکہ کی خاتونِ اول بننے سے پہلے نہ صرف وکیل تھیں بلکہ بہت اچھی وکیل تھیں۔

اور یہی پس منظر اس مباحثے میں ان کے کام آیا۔ محتاط انداز، بھرپور تیاری، نظم و ضبط۔ تاہم جو چیزیں کمرۂ عدالت میں کام آتی ہیں، وہ اکثر اوقات انتخابی مہم کی افراتفری میں ادھر ادھر بکھر جاتی ہیں۔

٭ پہلا صدارتی مباحثہ

دوسری طرف ڈونلڈ ٹرمپ نے تربیت یافتہ سیلزمین کا کردار ادا کیا۔ اصول، روایت، حتیٰ کہ سچائی بھی صرف اسی حد تک اہم ہوتی ہیں جب وہ ڈیل طے کرنے میں مدد دے۔

تاہم اس طریقۂ کار کا نقصان یہ ہے کہ سیلزمین اکثر خالی خولی باتوں پر زیادہ زور دیتے ہیں اور یہ وہ چیز ہے کہ 90 منٹ پر محیط مباحثے کی تیز روشنیوں تلے کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔

انجامِ کار ہلیری کلنٹن کی وکالت کام آئی اور انھوں نے بڑی حد تک مباحثے پر گرفت مضبوط رکھی۔

ٹرمپ کے پاس منصوبہ بندی تو تھی، اور انھوں نے ایک دفعہ اس پر چلنے کی بھی کوشش کی، لیکن سابق وزیرِ خارجہ نے بڑی حد تک ان کی یہ کوشش ناکام بنا دی۔

ٹیکسوں کا مسئلہ

ٹرمپ کی دکھتی رگ ان کے ٹیکس ہیں۔ وہ ابھی تک ٹیکسوں کا گوشوارہ منظرِ عام پر نہیں لا سکے۔ ٹرمپ کا بہانہ یہ تھا کہ ان کا آڈٹ ہو رہا ہے اس لیے وہ ٹیکس جاری نہیں کر سکتے، تاہم کلنٹن نے اسی گرم لوہے پر پے در پے چوٹیں لگائیں۔

ان کا کہنا تھا: ’میرے خیال سے وہ ملک کو اصل وجہ نہیں بتانا چاہتے، کیوں کہ وہ کوئی بڑی اہم، کوئی خطرناک چیز چھپا رہے ہیں۔

اوباما کی پیدائش

ٹیکسوں کے معاملے پر ٹرمپ کو دیوار سے لگانے کے بعد کلنٹن نے اوباما کی پیدائش کا ٹرمپ کے لیے خاردار مسئلہ چھیڑ دیا۔

کلنٹن کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اوباما کی پیدائش کے بارے میں جو زبردست مہم چلائی تھی اس کی اصل وجہ نسل پرستی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ مباحثہ ٹیلی ویژن پر بہت بڑی تعداد میں لوگوں نے دیکھا

ٹرمپ نے اس کا الزام ہلیری کلنٹن پر دھرنے کی کوشش کی کہ اوباما کی امریکی شہریت کا معاملہ سب سے پہلے کلنٹن نے 2008 میں اٹھایا تھا۔ لیکن حقائق کی کھوج کرنے والے اس دعوے کو پہلے ہی رد کر چکے ہیں۔

کلنٹن کا کہنا تھا: ’انھوں نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز ہی اس نسل پرستانہ جھوٹ سے کیا کہ ہمارا پہلا سیاہ فام صدر امریکی شہری نہیں ہے۔ اس کے لیے کسی قسم کا کوئی ثبوت نہیں تھا، لیکن وہ سالہاسال اس پر قائم رہے۔‘

باہر والا؟

مباحثے کے دوران ٹرمپ بار بار اپنے آپ کو سیاسی اسٹیبلشمنٹ سے الگ تھلگ ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے اور کہتے رہے کہ کلنٹن ایک عرصے سے سیاسی عمل کا حصہ ہیں اس لیے وہ امریکہ کو درپیش مسائل کی ذمہ دار ہیں۔

رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق 70 فیصد امریکی ملک کی سمت سے ناخوش ہیں، اور ٹرمپ اپنے آپ کو تبدیلی کا نمائندہ ظاہر کر کے ان لوگوں کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری طرف عام طور پر یہ بھی ہوتا آیا ہے کہ ایک پارٹی کے آٹھ سال اقتدار میں رہنے کے بعد لوگ اگلی بار نئی پارٹی کے صدر کا انتخاب کرتے ہیں۔ ٹرمپ نے اسی صورتِ حال کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کی۔

انھوں نے کہا: ’آپ 30 سال سے یہی کام کر رہی ہیں۔ آپ کو اسی وقت یہ تمام حل کیوں یاد آ رہے ہیں؟‘

سکت

ٹرمپ نے ہلیری کی ذات کو بھی حملہ بنایا اور کہا کہ ان کے اندر صدر بننے کا سٹیمنا نہیں ہے۔

اس کا جواب ہلیری نے یوں دیا کہ وہ وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے سو سے زیادہ ملکوں کا دورہ کر چکی ہیں: ’انھوں نے شکل و صورت سے لے کر سٹیمنا تک بات کی ہے۔ یہ وہ شخص ہے جو عورتوں کو سور، گنوار اور کتا کہتا رہا ہے، اور جس نے کہہ رکھا ہے کہ حمل آجروں کے لیے مسئلہ ہے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں