پہلے مباحثے میں نسل پرستی، عراق جنگ اور بےروزگاری پر بحث

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انتخاب سے قبل جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے درمیان سخت مقابلہ ہے

امریکہ میں پہلے صدارتی مباحثے کے دوران رپبلکن اور ڈیموکریٹ امیدواروں کے درمیان نوکریوں، دہشت گردی، نسل پرستی اور عراق کی جنگ کے معاملے پر گرما گرم بحث ہوئی ہے۔

نیویارک میں دونوں صدارتی امیدواروں کے درمیان پیر کی شب ہونے والا یہ مباحثہ 90 منٹ جاری رہا اور اس میں جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی حریف کا مزاج صدارت کے لیے غیرموزوں قرار دیا وہیں ہلیری نے ٹرمپ کی جانب سے اپنی ٹیکس کی معلومات ظاہر نہ کرنے پر تنقید کی۔

٭ٹرمپ کے حامیوں کو’گھٹیا‘ کہنے پر ہلیری کلنٹن کی معافی

٭صدر پوتن اوباما سے بہتر رہنما ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ

رپبلکن اُمیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ برے تجارتی معاہدوں کی وجہ سے ملک میں ’ملازمتوں کے مواقع‘ ختم ہو رہے ہیں۔

اُن کی حریف ڈیموکریٹس کی اُمیدوار ہلیری کلنٹن نے وعدہ کیا کہ اگر وہ صدر بنتی ہیں تو ملک میں ایک کروڑ ملازمتوں کے مواقع پیدا کریں گی اور ملک میں سرمایہ کاری بڑھائیں گی۔

انتخاب سے قبل جائزوں کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ اور ہلیری کلنٹن کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔

مباحثے کے دوران مسٹر ٹرمپ نے امریکہ کی معیشت کی تعریف کچھ اس طریقے سے کی ’ہم ایک بڑے، موٹے، بھدے غبارے میں بند ہیں۔‘

مباحثے کے منتظم لیسٹر ہالٹ کی جانب سے ٹیکس گوشواروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ڈونلڈ مرمپ نے محتاط رویہ اختیار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مباحثے میں ٹیکس گوشواروں کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ڈونلڈ مرمپ نے محتاط رویہ اختیار کیا

ٹرمپ نے کہا کہ اگر اُن کی حریف تحقیقات کے دوران 33 ہزار حذف کی گئی ای میلز منظرِ عام لائیں گی تب وہ بھی اپنے ٹیکس گوشوارے سامنے لائیں گے۔

سابق سیکریٹری خارجہ مسز کلنٹن نے روس کے صدر ولادی میر پوتن کی تعریف کرنے پر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

مباحثے کے اہم نکات

  • ٹرمپ نے ہلیری کلنٹن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’آپ نے اپنی تمام جوانی شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے لڑتے ہوئے گزاری ہے۔‘
  • ہلیری کلنٹن نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا مزاج ایسا نہیں ہے کہ وہ صدارت کا منصب سنھبال سکیں۔
  • ہلیری کلنٹن نے کہا کہ اپنا ذاتی ای میل استعمال کرنے کی ’غلطی‘ کا کوئی بہانا نہیں ہے۔
  • ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ افریقی نژاد امریکیوں کی زندگی امریکہ میں ’جہنم‘ ہے کیونکہ اُن کی زندگیوں کو خطرہ لاحق ہے۔
  • سیاہ فام افراد پر پولیس کے حملوں کے بارے ٹرمپ نے کہا کہ قانون کی حکمرانی ہی اس مسئلے کا حل ہے۔
  • ہلیری کلنٹن نے کہا کہ وہ نظامِ انصاف میں اصلاحات متعارف کروائیں گی کیونکہ ’بدقسمتی سے اکثر اوقات نسل سے کئی چیزوں کو محدود کر دیا جاتا ہے۔‘

رپبلکن اور صدارتی امیدواروں کے درمیان صدر اوباما کی جائے پیدائش کے معاملے پر بھی گرما گرم بحث ہوئی۔ مسٹر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں تو بہت پہلے سے یقین ہے کہ صدر اوباما امریکہ سے باہر پیدا ہوئے ہیں۔

جس کے جواب میں ہلیری کلنٹن نے کہا کہ یہ ’جھوٹ بہت دل توڑنے والا ہے‘ جس سے امریکہ کے پہلے افریقی نژاد امریکی صدر کو برا بھلا کہا جا رہا ہے۔

اس پہلے صدارتی مباحثے کا شمار تاریخ میں سب سے زیادہ دیکھے جانے والے مباحثے میں کیا جا رہا ہے اور اسے مجموعی طور پر دس کروڑ افراد نے ٹی وی پر دیکھا۔

امریکہ میں آٹھ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخاب سے قبل ابھی مزید دو صدارتی مباحثے ہونے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں