جـنوبی ایشیائی مردوں کی’عارضی بیویاں‘

تصویر کے کاپی رائٹ .
Image caption جنوبی ایشای کے کچھ ممالک کی طرح انڈیا میں بھی جہیز کی رسم ہے

برطانوی ماہرین کی جانب سے جاری کی گئی ایک نئی رپورٹ میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ ایشیائی نژاد برطانوی مردوں کی جنوبی ایشیا میں شادیاں کر کے عورتوں سے غیر مناسب سلوک اور ان کو کچھ عرصہ بعد ہی چھوڑ دینے کے عمل کو گھریلو تشدد کے طور پر دیکھا جائے۔

برطانیہ کی لنکن یورنیورسٹی سے وابستہ ماہرین کے بقول یہ مرد اپنی بیویوں کے خاندان والوں سے ہزاروں پاؤنڈ لیتے ہیں اور ان عورتوں کو سسرال میں غلاموں کی طرح رکھا جاتا ہے۔

رپورٹ میں ان عورتوں کو ’عارضی بیویاں‘ کہا گیا ہے اور رپورٹ کے مطابق ان عورتوں کے ساتھ عموماً غیر انسانی سلوک کیا جاتا ہے اور جب یہ برطانیہ آتی ہیں یا زیادہ تر جب یہ انڈیا میں ہی ہوتی ہیں انھیں ان کے خاوند چھوڑ دیتے ہیں۔

اس طرح کے حالات کا شکار ہونے والی خواتین اپنے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو اکثر دوسروں سے چھپاتی ہیں یہی وجہ ہے کہ ماہرین کو انڈیا سے تعلق رکھنے والی ایسی 57 خواتین کو تلاش کرنے میں ایک سال کا عرصہ لگا۔

سونیتا (اصلی نام ظاہر نہیں کیا جا رہا ہے) بھی ایسی ہی ایک خاتون ہیں ان کی شادی انڈیا کے علاقے پنجاب میں ہوئی تھی اور شادی کا دن ان کے لیے کسی خواب سے کم نہ تھا۔

شادی کی تصویریں دیکھتے سونیتا کا کہنا تھا ’ سب کچھ بہت اچھا تھا۔‘

شادی کے بعد ان کا شوہر ایک ماہ تک انڈیا میں ان کے ساتھ رہنے بعد برطانیہ واپس آگیا۔ سونیتا کو امید تھی کہ کچھ عرصے بعد وہ واپس آ کر اسے بھی اپنے ساتھ برطانیہ لے جائے گا لیکن پھر حالات خراب ہونا شروع ہوگئے۔

سونیتا کا کہنا ہے کہ ’وہ ایک سال تک واپس نہ آیا، میں جب بھی اس سے پوچھتی کہ انڈیا کب آؤ گے تو وہ ٹال دیتا۔ وہ ہم سے بہت سے چیزوں کا مطالبہ کرتا تھا ، کبھی فرنیچر اور کبھی پیسے کا۔‘

سونیتا کے شوہر نے پھر اس سے رابطہ ختم کر دیا اور اب اسے معلوم ہوا ہے کہ اس کے شوہر کی برطانیہ میں پہلے ہی شادی ہو چکی تھی۔

جنوبی ایشیا کے کچھ ممالک کی طرح انڈیا میں بھی جہیز کی رسم ہے اور سونیتا کے خاندان نے اس کے شوہر کے گھر والوں کو تین ہزار پاؤنڈ نقد اور چار ہزار پاؤنڈ مالیت کا سونا جہیز میں دیا تھا۔

سونیتا کے بقول اس کا خاوند اور سسرال والے اس پر تشدد بھی کرتے تھے۔

ماہرین کے مطابق اس طرح کے کیسز پاکستان اور بنگہ دیش میں بھی پائے جاتے ہیں۔

لنکن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر سنداری انیتا انڈیا کے دوروں کے دوران اس طرح کی خوتین سے ذاتی طور پر مل چکی ہیں۔

Image caption لنکن یونیورسٹی سے وابستہ ڈاکٹر سنداری انیتا انڈیا کے دوروں کے دوران اس طرح کی خوتین سے ذاتی طور پر مل چکی ہیں

ان کے مطابق جنوبی ایشیا کا معاشرہ ایسا ہے کہ وہاں اگر عورت کو اس کا شوہر چھوڑ دے تو عورت کی زندگی تباہ ہو جاتی ہے۔

’اسے بہت برا سمجھا جاتا ہے، اس کا اثر خاندان کے دیگر افراد پر بھی پڑتا ہے۔ عورت کی بہن کو رشتہ ملنے میں بھی مشکل ہوتی ہے۔ عورت کو آسانی سے نوکری نہیں ملتی، اس کو مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، کیونکہ اب وہ کنواری نہیں رہی تو اسے داغدار سمجھا جاتا ہے۔‘

ماہرین کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں برطانوی ریاست سے سفارش کی گئی ہے کہ شادی کے بعد عورتوں کو چھوڑنے کے عمل کو گھریلو تشدد کی قسم تسلیم کیا جائے اور بے شک یہ خواتین کبھی برطانیہ آئی بھی نہ ہوں انھیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

اس حوالے سے برطانوی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ’ حکومت شادی یا کسی بھی رشتے میں تشدد برداشت نہیں کرے گی۔ ہم بڑھ چڑھ کر غلامی، زبردستی کی شادی اور گھریلو تشدد کے خلاف اقدامات اٹھاتے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی اٹھاتے رہیں گے۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں