’ایم ایچ 17 کو روس نواز باغیوں کے علاقے سے مار گرایا گیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption تفتیش کاروں نے ہلاک ہونے والوں کے رشتےداروں کو بتایا ہے کہ وہ اس سلسلے کم از کم ایک سو افراد سے بات چیت کریں گے

2014 میں مشرقی یوکرین کی فضائی حدود میں ملائشیا ایئرلائن کی پرواز ایم ایچ 17 کے حادثے کے بین الاقوامی تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ طیارے کو مار گرانے والا میزائل روس نواز باغیوں کے علاقے سے داغا گیا تھا۔

پرواز ایم ایچ 17 ایمسٹرڈیم سے کوالالمپور جا رہی تھی کہ مشرقی یوکرین کے اوپر پرواز کرتے ہوئے اسے روسی ساختہ میزائل کا نشانہ بن گئی اور اس پر سوار تمام 298 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

روبی اولر کی بھانجی اس حادثے میں ہلاک ہوئی تھیں۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ تفتیش کاروں نے ہلاک ہونے والوں کے رشتےداروں کو بتایا ہے کہ وہ اس سلسلے کم از کم ایک سو افراد سے بات چیت کریں گے۔

Image caption طیارہ 2014 میں مشرقی یوکرین کے اوپر پرواز کرتے ہوئے روسی ساختہ میزائل کی مدد سے مار گرایا گیا تھا

ان کا کہنا تھا کہ تفتیش کاروں نے انھیں بتایا کہ یہ میزائل کیسے روس سے لایا گیا تھا اور اس حوالے سے انھوں نے فون، ویڈیو اور مختلف تصاویر کی مدد سے کیا شواہد اکٹھے کیے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ میزائل اس علاقے سے فائر کیا گیا تھا جو روس نواز باغیوں کے زیرِ اثر تھا۔

ولندیزی قیادت میں مشترکہ تفتیشی ٹیم میں ہالینڈ، آسٹریلیا، بیلجیئم، ملائشیا اور یوکرین کے تفتیش کار شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ twitter.comoivshina
Image caption تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ میزائل اس علاقے سے فائر کیا گیا تھا جو روس نواز باغیوں کے زیرِ اثر تھا

اس سے قبل ڈچ سیفٹی بورڈ کی تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ یوکرین کی فضائی حدود میں تباہ ہونے والا ملائشیئن ایئر لائنز کا طیارہ روسی ساختہ میزائل کا نشانہ بنا تھا۔ تاہم اس رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ میزائل کہاں سے داغا گیا تھا۔

مشترکہ تفتیشی ٹیم کی رپورٹ کا مقصد اس حادثے سے متعلق ایک مقدمے کی تیاری کرنا ہے۔

اسی بارے میں