شمعون پیریز، اسرائیل کے بابائے قوم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption شمعون پیریز اسرائیلی سیاست میں تقریباً 70 برس تک فعال رہے

1948 میں جن سیاست دانوں نے اسرائیل کی بنیاد رکھی تھی شمعوں پیریز پبلک سٹیج کو خیر باد کہنے والے اس پیڑھی کے آخری رہنما تھے۔

وہ تقریباً 70 برس تک سیاست میں سرگرم رہے لیکن اتنی طویل مدت کے دوران بھی ان کے خاص کارناموں کا انتخاب مشکل نہیں ہے۔

*اسرائیل کے سابق صدر شمعون پیریز چل بسے

* شمعون پیریز کی زندگی تصاویر میں

1993 میں وہ ان سیاست دانوں کے گروپ، بشمول بل کلنٹن، یاسر عرفات اور اسحق رابن، کا حصہ تھے جنھوں نے اوسلو معاہدے کے نام سے معروف فلسطین کے ساتھ ہونے والے پہلے امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

ان وعدوں پر وہ پوری طرح سے کھرا نہیں اتر سکے لیکن ان پرامید دنوں میں کسی نے بھی یہ واضح نہیں کیا تھا کہ کچھ کرنے سے بہتر وعدہ کرنا ہی ہے۔

وائٹ ہاؤس میں دستخط کرنے کی تقریب کے موقعے پر انھوں نے کہا تھا: ’ہم ایک قدیم سرزمین کے باسی ہیں۔ ہماری زمین چھوٹی ہے لیکن ہماری مصالحت عظیم ہونی چاہیے۔ میں فلسطینی وفد کو بتانا چاہتا ہوں کہ ہم اس میں سنجیدہ ہیں، ہم سب کو گولیوں سے ووٹ کی طرف اور بندوق سے بیلچے کی طرف مڑنا ہو گا۔ ہمیں آپ کے غزہ کو خوشحال بنانے کے لیے مدد کرنی چاہیے اور (ہم چاہتے ہیں کہ) جیریکو کا شہر پھر سے کھل اٹھے۔

’جیسا کہ ہم نے وعدہ کیا ہے، ہم آپ سے مستقل حل کے لیے بات چیت کریں گے، اور اپنے سارے ہمسائیوں کے ساتھ بھی، اور سب کے لیے جامع قیامِ امن کے لیے بھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سنہ 1994 میں پیریز کو فلسطینیوں کے ساتھ امن معاہدے میں ان کے کردار پر امن کا نوبل انعام دیا گیا تھا

شاید ان کا یہی خطاب اس بات کا عکاس ہے کہ عالمی سطح پر شمعون پیریز کس طرح سے یاد کیے جائیں گے، شاید وہ بھی یہی چاہتے ہوں گے کہ انھیں ایک پرامید شخص اور اسرائیل کے پر امن داعی کے طور پر یاد رکھا جائے۔

شمعون پیریز نے مشرقی وسطیٰ سے متعلق اپنے ان نظریات کے بارے میں اکثر بات کی جس میں آزاد تجارت اور پانی کی تقسیم کے ساتھ ساتھ اسرائیل اور فلسطین عرب ہمسائیوں کے ساتھ امن سے رہ سکیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ اسرائیل کو دفاعی نقطۂ نظر سے مضبوط بنانے کا کام بھی کرتے رہے اور انھوں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ اس کے پاس طاقتور فوج ہو۔

اپنے کریئر کی ابتدا میں وہ بیرونی ممالک سے ہتھیاروں کی فراہمی کے لیے بات چیت کرنے والے وفود کا اہم حصہ ہوتے تھے اور انھی نے خفیہ سطح پر بات چیت کی جس سے اسرائیل جوہری طاقت بن سکا۔

جب اوسلو معاہدے کے لیے انھیں نوبیل کا امن انعام دیا گیا تو انھوں اسرائیل کی فوجی طاقت کے بارے میں فلسفیانہ انداز میں بات کی۔

ان کا کہنا تھا: ’جو جنگیں ہم نے لڑیں وہ ہم پر تھوپی گئی تھیں۔ اسرائیلی فوج کا شکریہ کہ ہم نے وہ سب کی سب جیتیں، لیکن ہم نے وہ عظیم کامیابی حاصل نہیں کی جس کی ہمیں خواہش تھی، فتوحات حاصل کرنے کی ضرورت سے آزادی۔‘

شاید وہ امن کے متعلق اکثر بڑے واضح انداز سے بات کرتے تھے اسی وجہ سے شمعون پیریز کی عالمی سطح پر تعریف بھی ہونے لگی اور انھوں نے شہرت بھی حاصل کی لیکن ان کے یہ تمام نظریات گھریلو سیاست میں کامیاب نہیں ہوئے۔

انھوں نے کبھی خود انتخابات میں کامیابی حاصل نہیں کی لیکن وہ دو بار مختصر مدت کے لیے وزیر اعظم بھی رہے۔ ایک بار جب 1995 اسحق رابن کو دائیں بازو کے سخت گیر یہودیوں نے قتل کر دیا تو وزیر اعظم بنا دیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اپنے سیاسی کریئر کے دوران کوئی ایسا عہدہ نہیں تھا جس پر وہ فائز نہ ہوئے ہوں اور ملک کی کہانی میں کوئی ایسا باب نہیں ہے جس میں انھوں نے کوئي کردار نہ ادا کیا ہو

اس وقت انھوں نے ایسی باتیں کہی تھیں جسے اسرائیل کے بہت سے لوگ محسوس کر رہے تھے۔ انھوں نے کہا: ’آپ ایک جسم کو تو مار سکتے ہیں لیکن آپ عظیم نظریۂ امن کو قتل نہیں کر سکتے۔‘

اپنے سیاسی کریئر کے دوران کوئی ایسا عہدہ نہیں تھا جس پر وہ فائز نہ ہوئے ہوں اور نہ ہی ملک کی کہانی میں کوئی ایسا باب ہے جس میں انھوں نے کردار نہ ادا کیا ہو۔

اپنے دیگر کئی حریفوں کے برعکس ان کا تعلق فوج سے نہیں تھا لیکن جب 1976 میں فلسطینیوں نے ایتھنز سے پیرس جانے والے ایک مسافر جہاز کو ہائی جیک کیا اور اسے یوگینڈا لے کر گئے تو اس وقت وہ ملک کے وزیر دفاع تھے۔

اسرائیلی کمانڈوز نے ایئر پورٹ ٹرمینل پر آپریشن کر کے تمام ہائی جیکروں کو قتل کر کے سبھی مسافروں کو بچا لیا۔ اس وقت اسرائیلی عوام سے اپنے خطاب میں انھوں نے اسرائیلیوں کے دل کی بات کہی تھی۔

انھوں نے کہا: ’یہ آپریشن فاصلے کے لحاظ سے بہت دور تھا اور وقت کے لحاظ سے بہت ہی مختصر، اور جس قدر کوئی تصور کر سکتا ہے اس قدر ہمت اور حوصلے کا کام تھا، اس لیے یہ ایک بے مثال آپریشن تھا۔‘

طویل سیاسی کریئر کے دوران وقت کے ساتھ ساتھ وہ اپنے موقف میں تبدیلی بھی لاتے رہے۔

وہ اسی حکومت کا حصہ تھے جس نے 1976 کی جنگ میں مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کو بسانے کی منظوری دی تھی اور پھر بعد میں وہ اسی کو امن معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھنے لگے تھے۔

لیکن وہ اپنے اس موقف پر ہمیشہ قائم رہے کہ ان کا یہ موقف امن کی خواہش سے متصادم نہیں ہے کہ اسرائیل کو ہمیشہ حماس جیسی تنظیموں سے مقابلے کے لیے اپنی فوج کو طاقتور بنانا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ 1993 میں انھوں نے فلسطینیوں کے ساتھ اوسلو معاہدے پر دستخط کیے تھے

انھوں نے ایک بار کہا تھا کہ ’ہم حماس اور اسلامی جہاد سے لڑنے کے لیے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے ویسے ہی پرعزم ہیں جیسے امن کے عمل کے لیے پر عزم ہیں۔‘

سنہ 1996 میں جب حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ داغنے شروع کیے تو اس وقت کے وزیراعظم کی حیثیت سے شمعون پیریز نے ان کے خلاف فوجی کارروائی کا حکم دیا تھا۔ اور پھر اسرائیلی فوج نے 16 روز تک اپنے حملے جاری رکھے جس میں سینکڑوں عام لبنانی شہری ہلاک ہوئے اور ہزاروں بےگھر۔

انھی کی قیادت میں ایک بار جب اسرائیلی فوج نے اقوام متحدہ کے احاطے پر گولہ باری کی تھی تو اس میں بھی درجنوں افراد ہلاک ہوئے تھے جس کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی تھی۔

عمر کے آخری پڑاؤ میں انھوں نے اپنا 90واں جنم دن جب منایا تو وہ اسرائیل کے صدر تھے۔ اس طرح وہ دنیا کے معمر ترین سربراہ بن گئے تھے۔

اپنے سیاسی کریئر کے ابتدا میں جس مقبولیت سے وہ محروم رہے تھے انھیں وہ شہرت اور مقبولیت ان کی آخری عمر میں میسر ہوئی اور بابائے قوم کی حیثیت سے انھوں نے اسے پسند کیا اور لطف اندوز بھی ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں