اوپیک ممالک کا تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption تیل کی قیمتیں اس موقع پر27 ڈالر فی بیرل تک گر گئی تھیں

دنیا میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک کا گذشتہ آٹھ برسوں میں پہلی مرتبہ تیل کی پیداوار میں کمی پر اتفاق کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ ہوا ہے۔

بدھ کو الجزائر میں ہونے والے اجلاس میں اوپیک نے رسد زیادہ ہونے کے بعد تیل کی پیدوار میں کمی کا ابتدائی معاہدہ کیا تھا۔

٭ چار ممالک کا تیل کی پیداوار نہ بڑھانے پر اتفاق

اجلاس کے دوران شریک ایران کے کے وزیر تیل نے کہا تھا کہ ’اوپیک نے آج غیر معمولی فیصلہ کیا ہے۔‘

اس معاہدے کے بعد عالمی مارکیٹ میں بریٹ کروڈ خام تیل کی قیمت چھ فیصد اضافے کے بعد 49 ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہے۔

اوپیک ممالک کے وزیر تیل کے اجلاس کے دوران پیدوار میں کمی کا معاہدہ کیا گیا ہے اور اس معاہدے کی مکمل تفصیلات اوپیک کے نومبر میں ہونے والے اجلاس میں طے کی جائیں گی۔

امکان ہے کہ اوپیک ممالک تیل کی یومیہ پیدوار سات لاکھ بیرل تک کم کر دیں گے اگرچہ پیدوار میں کٹوتی کا اطلاق تمام ممالک پر یکساں نہیں ہو گا اور ایران کو اجازت دی گئی ہے کہ وہ تیل کی پیداوار کو بڑھا سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں ایران اور سعودی عرب کے مابین کشیدگی کے باعث پہلے اوپیک ممالک پیدوار میں کمی کے لیے کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اس وقت اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی یومیہ پیدوار تین کروڑ 32 لاکھ بیرل یومیہ ہے

ماضی میں تیل برآمد کرنے والے نسبتاً چھوٹے ممالک تیل کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے کم ہونے کے بعد پیدوار میں کمی کے لیے آواز اُٹھاتے رہے ہیں۔

قطر کے وزیر توانائی اور اوپیک کے صدر محمد بن صالح السدا نے بتایا کہ ’پیدوار میں کمی کے ابتدائی معاہدے کے تحت اوپیک ممالک اپنی یومیہ پیدوار کو تین کروڑ 30 لاکھ بیرل سے تین کروڑ 25 لاکھ بیرل یومیہ کے درمیان محدود کریں گے۔‘

اس وقت اوپیک ممالک کی جانب سے تیل کی یومیہ پیدوار تین کروڑ 32 لاکھ بیرل یومیہ ہے۔

تیل کے تاجر اس معاہدے کو شکوک و شبہات کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ اُن کا کہنا ہے کہ وہ معاہدے کی تمام شرائط دیکھنے کے بعد ہی کوئی رائے دے سکتے ہیں خاص کر کے ممالک انفرادی ُُحیثیت میں پیداوار کتنی کم کرتے ہیں۔

توانائی کے شعبے سے منسلک مالیاتی امور کے مشیر جیف گویگلی کا کہنا کہ یہ ’معاہدے بہت ہی ابتدائی نوعیت کا ہے‘۔

اسی بارے میں